Skip to main content

ہالی وڈ کے بڑے بڑے اداکار سلمان سے باکس آفس پر مقابلہ کر نے سے کترانے لگے ٗ فلموں کی نمائش کی تاریخیں بدل ڈالیں

ممبئی (این این آئی)بالی وڈ کے بعد ہالی وڈ کے بڑے بڑے اداکار بھی سلمان خان سے باکس آفس پر مقابلہ کرنے سے کترانے لگے ہیں اور انہوں نے اپنی فلموں کی نمائش کی تاریخیں ہی بدل ڈالی ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سلمان خان 5 سال کے وقفے کے بعد سابقہ محبوبہ کترینہ کیف کے ساتھ فلم ’ٹائیگر زندہ ہے‘ میں ایکشن میں نظرآئیں گے۔ دونوں سپر اسٹارز کی فلم ایکشن فلم ہے اور 2012 کی ’ایک تھا ٹائیگر‘ کا سیکوئل ہے۔
بنانے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں تاہم ان کی فلم ٹیوب لائٹ باکس آفس پر خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی تھی۔دبنگ خان کی ’بجرنگی بھائی جان‘ اور ’سلطان‘ نے باکس آفس پر کمائی کے ریکارڈ بنائے اور ان یہ فلمیں بالی وڈ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی 10 فلموں کی فہرست میں شامل ہیں۔سلمان خان کی مقبولیت اور باکس آفس ریکارڈ نے ہالی وڈ اداکاروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے اور اسی لیے نامور ہالی وڈ اداکار بھی باکس آفس پر دبنگ خان سے مقابلے کرنے سے کترانے لگے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہالی وڈ اداکار ڈین جونسن کی فلم ’جمان جی ٗ ویلکم ٹو دی جنگل‘ 20 دسمبر کو بھارت میں نمائش کیلئے پیش کی جانی تھی تاہم پروڈیوسرز نے سلمان کی فلم’ٹائیگر زندہ ہے‘ سے باکس آفس پر تصادم سے گریز کرتے ہوئے فلم کی نمائش کی 29 دسمبر کو کر دی ہے۔ایک اور ہالی وڈ اداکار جیک مین کی فلم’ دی گریٹسٹ شو مین‘ بھی کرسمس کے موقع پر پیش کی جانی تھی تاہم اب یہ فلم بھارت میں یکم جنوری 2018 کو ریلیز کی جائے گی۔سلمان خان کی ’ٹائیگر زندہ ہے‘ 22 دسمبر کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی جس میں کترینہ کیف ان کے مدمقابل مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔سلومیاں کو باکس آفس کا ’سلطان‘ مانا جاتا ہے اور ان کی فلمیں باکس آفس پر کمائی کے ریکارڈ


Copyright by: javedch.com and all right reserved by Javedch.com

Comments

Popular posts from this blog

پی ایس ایل ایڈیشن 3کی ڈرافٹنگ ،کھلاڑیوں کی فہرست جاری،غیرملکی ٹیموں کے بڑے بڑے نام شام

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کی ڈرافٹنگ کے لئے کھلاڑیوں کے ناموں کی فہرست جاری کردی۔پی سی بی کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے لئے 12نومبر کو لاہور میں ڈرافٹنگ کا عمل ہوگا اور فہرست میں شامل6فرنچائز کھلاڑیوں کا انتخاب کریں گی۔پی سی بی نے ڈرافٹنگ کے لئے 501کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں 5مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔پلاٹینم کیٹیگری میں مجموعی طور پر 21، ڈائمنڈ کیٹیگری میں 22، گولڈ کیٹیگری  میں مچل جانسن، کرس لین، جے پی ڈومنی، انجیلو میتھیوز، شین واٹسن، کرس گیل، این مورگن، تھسارا پریرا، الیکس ہیلس، عمران طاہر اور احمد شہزاد سمیت دیگر شامل ہیں۔ڈائمنڈ کیٹیگری میں تمیم اقبال، ٹم برسنین، ویل پارنیل، لیوک رونچی، ڈیرن براوو، کیل ایبٹ، جیسن روئے، لیوک رائٹ، اسٹیون فن، مارلن سیموئلز اور عادل رشید سمیت دیگر شامل ہیں۔اوپل تھرنگا، دنیش چندیمل، چیڈوک والٹن، گرینٹ ایلیٹ، سیم بلنگ، آندرے فلیچر، تلکرانے دلشان، بریڈ ہوگ، جیمز فرینکلن، مارک ووڈ، جیروم ٹیلر، ویلیم پورٹرفیلڈ گولڈ کیٹیگری کا حصہ ہیں۔ڈرافٹنگ کے عمل کے لئے سلور کیٹیگری  ...

آہ۔۔۔ دینا واڈیا

ا یک عظیم باپ کی عظیم بیٹی آج اس دنیا میں نہیں رہی، ہر گھر میں جھگڑے ضرور ہو تے ہیں، مگر رشتے کبھی ختم نہیں ہو تے، ایسا ہی ایک عظیم رشتہ قائداعظم محمد علی جناح اور ان کی بیٹی دینا واڈیا میں بھی تھا، دونوں کی زندگی میں کبھی نہیں بنی، مگر باپ کی موت کے بعد دینا واڈیا ان کے جنازے میں پاکستان تشریف لا ئیں، وہ اپنے والد کی موت پر بہت افسردہ تھیں۔قائداعظم کی بیٹی دینا واڈیا 15اگست 1919ء کو پیدا ہوئیں، انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ بھارتی شہر ممبئی اور برطانوی دارالحکومت لندن میں گزارا اور وہیں شادی کے بندھن میں بھی بندھیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق دینا واڈیا قائد اعظم محمد علی جناح کی اکلوتی بیٹی تھیں، جن کی انتقال کے وقت عمر 98 سال تھی۔دینا واڈیا کے دو بچے صاحبزادی ڈیانا واڈیا اور صاحبزادے نوسلی واڈیا ہیں۔اپنی والدہ کے انتقال کے وقت دینا واڈیا کی عمر ساڑھے نو سال تھی، سوائے ان دنوں کے جب انگلستان میں قیام کے دوران جناح نے انہیں وہاں بلا کر اسکول میں داخل کرایا، ان کی زیادہ تر پرورش اپنے ننھیال میں ہی ہوئی۔اس طرح ان کی تربیت ایک سراسر غیر اسلامی ماحول میں ہوئی، انہوں نے ایک امیر پارسی نیول...

تجربہ کار سے چالاکی اکثر مہنگی پڑ جاتی ہے

ایک گاؤں میں ایک نواب صاحب رہا کرتے تھے اور بہت بڑی جائیداد اور زمینوں کے مالک تھے زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی ان کے آس پاس کے لوگ بھی نواب صاحب سے بہت خوش تھے ایک دفعہ نواب صاحب بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں ان کا چھوٹا پیشاب بند ہوگیا قریب کے سارے حکیم اور ااطباء نے اپنے تمام نسخے آزما لیے مگر نواب صاحب کو کسی طور آرام نا آیا تنگ آ کر نواب صاحب نے اپنے ملازم حکیم سے کہا کہ وہ اریب قریب کے گاؤں میں منادی کروادے کہ جو ہمیں اس بیماری سے نجات دلائے گا ہم اسے سو اشرفیاں انعام دیں گے بہت سے لوگ انعام کے لالچ میں نواب صاحب کا علاج کرنے آئے مگر کوئی بھی کامیاب نا ہو سکا نواب صاحب کی تکلیف روز بہ بروز بڑھتی جا رہی بڑھتی جا رہی تھی مگر کوئی بھی حکیم ان کاعلاج تلاش نا کر سکا ایک دن ایک بزرگ پھٹے پرانے حال میں حویلی کے گیٹ پر پہنچے اور دربان سے اندر جانے کی اجازت چاہی دربان نے بزرگ کا حلیہ دیکھ کر انھیں بھگانا چاہا مگر بزرگ بضد رہے کہ انھیں نواب صاحب سے ملنا ہےبمشکل تمام دربانوں نے ان بزرگ کو نواب صاحب کے پاس جانے کی اجاز دی وہ بزرگ نواب صاحب کے پاس پہنچے اور علاج کی اجازت چاہی نواب صاحب نے ان...