Skip to main content

تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کا ملک گیر احتجاج کا اعلان، حکومت سے استعفے کا مطالبہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک لبیک یا رسول اللہؐ نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا، تفصیلات کے مطابق نماز جمعہ کے بعد تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے تحت ملک گیر احتجاج کیا گیا اس دوران حکومت سے زاہد حامد اور رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا، فیصل آباد اور لاہور میں تحریک کے سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل میں منتقل کر دیا،فیصل آباد میں پولیس نے کارکنان پر تشدد بھی کیا، کارکنان کی پکڑ دھکڑ اور تشدد کے بعد 
بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے رہنما و کارکنان بھاری تعداد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں جس سے جڑواں شہروں کے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تحریک لبیک یارسول اللہ ؐ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ختم نبوت حلف نامے میں ردو بدل کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ اس تحریک کے شرکاء کے سردی میں بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے کے باوجود حوصلے جواں ہیں۔ دھرنے کے شرکاء اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ شرکائکا کہنا ہے کہ ختم نبوت حلف نامے میں ردو بدل کے ذمہ دار وفاقی وزیر زاہد حامد اور پنجاب کے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کو عہدے سے برطرف کیا جائے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے شرکاء پر پولیس کی جانب سے تشدد اور پکڑ دھکڑ پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا گیا ہے، واضح رہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کی قیادت نے ملک


Copyright by: javedch.com and all right reserved by Javedch.com

Comments

Popular posts from this blog

ایم کیو ایم پاکستان پاک فوج کے کس اعلیٰ افسر نے بنائی

کراچی(آئی این پی ) پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی)کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ فاروق ستا ر کے ساتھ ہماری ملاقات اور پریس کانفرنس انکی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے کروائی ، میں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ نہیں ہوں ،ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے بلوا کر فاروق ستار سے ملوایا، ہمارے پہنچے سے پہلے وہاں فاروق ستار موجود تھے،تاثردیا جارہا ہے فاروق ستار کو اغوا کرکے پریس کانفرنس کرائی، اگر ہم نے بلوایا ہوتا تو ہم پہلے سے موجود ہوتے فاروق ستار نہیں ،فاروق ستار اور انکی 11 رکنی ٹیم گزشتہ 8 ماہ سے ہم سے ملاقاتیں کر رہی تھی،ہرگھنٹے  اورکامیڈی شوہورہا تھا، ہم نے فیصلہ کیا ملکر جماعت کا نیا نام رکھا جائے گا،ہم نے فیصلہ کیا ملکر جماعت کا نیا نام رکھا جائے گا،ہم ڈان لیکس اور ایم کیو ایم لیکس کرنے والے لوگ نہیں، ہمیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،کہا تھا کہ جھوٹ اتنا بولیں کہ سچ نہ بولنے پڑ یں، الٹا فاروق ستار نے ہم پر الزام لگایا کہ پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، الطاف حسین را کیلئے کھل کے کام کر رہا ہے ،فاروق ستار چاہتے تھے کہ پی ایس پی، ایم کیو ایم میں ضم ہو، لیکن میں نے ان کو بتایا کہ میں ایم کیو ایم میں ...

پی ایس ایل ایڈیشن 3کی ڈرافٹنگ ،کھلاڑیوں کی فہرست جاری،غیرملکی ٹیموں کے بڑے بڑے نام شام

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کی ڈرافٹنگ کے لئے کھلاڑیوں کے ناموں کی فہرست جاری کردی۔پی سی بی کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے لئے 12نومبر کو لاہور میں ڈرافٹنگ کا عمل ہوگا اور فہرست میں شامل6فرنچائز کھلاڑیوں کا انتخاب کریں گی۔پی سی بی نے ڈرافٹنگ کے لئے 501کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں 5مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔پلاٹینم کیٹیگری میں مجموعی طور پر 21، ڈائمنڈ کیٹیگری میں 22، گولڈ کیٹیگری  میں مچل جانسن، کرس لین، جے پی ڈومنی، انجیلو میتھیوز، شین واٹسن، کرس گیل، این مورگن، تھسارا پریرا، الیکس ہیلس، عمران طاہر اور احمد شہزاد سمیت دیگر شامل ہیں۔ڈائمنڈ کیٹیگری میں تمیم اقبال، ٹم برسنین، ویل پارنیل، لیوک رونچی، ڈیرن براوو، کیل ایبٹ، جیسن روئے، لیوک رائٹ، اسٹیون فن، مارلن سیموئلز اور عادل رشید سمیت دیگر شامل ہیں۔اوپل تھرنگا، دنیش چندیمل، چیڈوک والٹن، گرینٹ ایلیٹ، سیم بلنگ، آندرے فلیچر، تلکرانے دلشان، بریڈ ہوگ، جیمز فرینکلن، مارک ووڈ، جیروم ٹیلر، ویلیم پورٹرفیلڈ گولڈ کیٹیگری کا حصہ ہیں۔ڈرافٹنگ کے عمل کے لئے سلور کیٹیگری  ...

تجربہ کار سے چالاکی اکثر مہنگی پڑ جاتی ہے

ایک گاؤں میں ایک نواب صاحب رہا کرتے تھے اور بہت بڑی جائیداد اور زمینوں کے مالک تھے زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی ان کے آس پاس کے لوگ بھی نواب صاحب سے بہت خوش تھے ایک دفعہ نواب صاحب بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں ان کا چھوٹا پیشاب بند ہوگیا قریب کے سارے حکیم اور ااطباء نے اپنے تمام نسخے آزما لیے مگر نواب صاحب کو کسی طور آرام نا آیا تنگ آ کر نواب صاحب نے اپنے ملازم حکیم سے کہا کہ وہ اریب قریب کے گاؤں میں منادی کروادے کہ جو ہمیں اس بیماری سے نجات دلائے گا ہم اسے سو اشرفیاں انعام دیں گے بہت سے لوگ انعام کے لالچ میں نواب صاحب کا علاج کرنے آئے مگر کوئی بھی کامیاب نا ہو سکا نواب صاحب کی تکلیف روز بہ بروز بڑھتی جا رہی بڑھتی جا رہی تھی مگر کوئی بھی حکیم ان کاعلاج تلاش نا کر سکا ایک دن ایک بزرگ پھٹے پرانے حال میں حویلی کے گیٹ پر پہنچے اور دربان سے اندر جانے کی اجازت چاہی دربان نے بزرگ کا حلیہ دیکھ کر انھیں بھگانا چاہا مگر بزرگ بضد رہے کہ انھیں نواب صاحب سے ملنا ہےبمشکل تمام دربانوں نے ان بزرگ کو نواب صاحب کے پاس جانے کی اجاز دی وہ بزرگ نواب صاحب کے پاس پہنچے اور علاج کی اجازت چاہی نواب صاحب نے ان...