Skip to main content

ایک ماں کی اپنی بچی کو بچانے کے لیے قربانی ،پڑھیے حالیہ دور کی عظمت سے بھرپور مامتا کی سچی داستان

ویومنگ کی ایک چھوٹی سی بستی ایک ایسی جگہ 
دوسے کو اچھے سے جانتا ہے اور جب بھی کوئی ایسی بات ہو تو ہر ایک کو جاننے کا اشتیاق رہتا ہیہ ایک اصل کہانی ہے کہ شیلبے آن کارٹر اور اس کی چھوٹی بچی کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ کیانا ڈیواس جنوری 2017 کو پیدا ہوئی ۔ہے جہاں ہر کوئی ایک
شیبلے اور اس کا منگیتر اس کی ماں کے ہاں رہتے تھے اور پہلے ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی تھی لیکن کچھ عرصہ سے اس نے ایک فارمیسی میں جانا شروع کیا تھاکیانا ڈیوس کی پیدائش ان کے گھر والوں کے لئے ایک بڑی خوشبری تھی لیکن حقیقت میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بننے جا رہی تھی ۔ جب شیبلے 21 سال کی ہوئی تو ایک عجیب واقع پیش آیا ۔
شیبلے اپنی بچی میں مگن تھی تھی کہ اچانک گھر میں آگ بھڑک اٹھی ، اس نے جب ایمرجنسی 911 کو کال کی تو اس کی آواز بمشکل سنائی دے رہی تھی اور اس نے بتایا کہ وہ سانس لینے میں دشواری محسوس کر رہی ہے لیکن اس نے اپنی بچی کے متعلق تفصیلات نہیں بتائی جب آگ بجھانے ووالی گاڑیاں اور عملہ جائے وقوعہ پر پہنچا تو انہیں حیرانگی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں پتا چلا کہ بچی کے بارے میں ماں نے نہیں بتایا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جب تک عملہ پہنچتا ہے تب تک بت دیر ہو چکی ہو گی ۔ آگے بجھانے والوں نے اس کو گھر کی دوسری منزل پر کاربن مونوآکسائیڈ کی وجہ سے مردہ پڑے دیکھا ۔جب آگ بجھی اور عملہ اندر جانے کے قابل ہوا تو انہیں چھوٹی بچی کیانا ڈیواس ملی
جس کو اس کے ماں نے گاڑی ک سیٹ کے ساتھ باندھا تھا اور اس کو کھڑکی سے باہر پھینکا تھا اس کی ماں نے اسے بچانے کی ہر جتن کی تھی اور وہ اس میں کامیاب ٹھہری تھی۔ آگ بجھانے کے ادارہ کے سربراہ نے کہا ، یہ ایک ممتا کی طاقت ہے کہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے بچی کو بچایا لیکن حیران اس بات پر ہے کہ اس نے خود اس جگہ سے خود کو باہر کیوں نہیں نکالاڈاکٹر نے کیانا کے بارے میں بتاتے ہو کہا۔ کیانا بالکل ٹھیک ہے اور اسے خراش تک نہیں آئی ۔ اس کا مطلب کے اس کی ماں کا ٹوٹکہ کام آیا۔ یہ واقعہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ مشکل میں کس طرح صحیح اور بروقت اقدام کیا جائے ۔ کیانا اپنی ماں کی سمجھداری کی وجہ سے ساری زندگی اس کی احسان مند رہے گی انا کو ہسپتال کے بعد اس کے رشتہ داروں کے حوالے کیا گیا اگر چہ اس نے اپنی ماں کو دوبارہ سے دیکھا نہیں لیکن ساری زندگی اس کی احسان مند رہے گی ۔ایک ہیرو۔اس وقعہ سے اس بات کی تصدیق وتی ہے کہ ایک ماں اپنے بچوں کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کرتی۔ سیلبے ہمیشہ ایک ہیرو کی طرح یاد رکھی جائے گی مائیں ہمیشہ پہلے بچوں کی حفاظت اور اپنی حٖفاظت کا بندوبست کرتی ہے اور یہی ایک عورت کو ماں کا درجہ دیتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد ٹاون کے مکینوں کے اس گھر کی دوبارہ تعمیر کے لئے 40000 ڈالر صرف ایک ہفتہ میں جمع کئے ۔یہ رقم شیلبے کے سوگوران کے لئے مرہم کا کام دے گی

Comments

Popular posts from this blog

کپتان کے پے درپے یارکر پیپلزپارٹی کو لے ڈوبے آصف زرداری کو بڑا جھٹکا، ندیم افضل چن کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبرنے ہلچل مچا دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پیپلزپارٹی کے اہم رہنما اور سینٹرل پنجاب کے مستعفی ہونے والے سیکرٹری جنرل ندیم افضل چن سے پی ٹی آئی وفد کی ملاقات،تحریک انصاف میں شامل ہونے والے بھائی وسیم افضل چن بھی ملاقات میں شریک ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی پنجابکے اہم رہنما اور سینٹرل پنجاب کےمستعفی ہونے والے سیکرٹری جنرل ندیم افضل چن سے پی ٹی آئی وفد نے  اس ملاقات میں کچھ دیر بعد تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ان کے بھائی وسیم افضل چن بھی شامل ہو گئے ۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ندیم افضل چن سے نورعالم خان کی قیادت میں تحریک انصاف کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے وفد کی ندیم افضل چن سے ملاقات تحریک انصاف میں ان کی شمولیت کے حوالے سے تھی، واضح رہے اس سے قبل ندیم افضل چن کے چھوٹے بھائی اور سابق ممبر پنجاب اسمبلی وسیم افضل چن تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔ بنی گالا میں عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وسیم افضل چن کے گلے میں...

تجربہ کار سے چالاکی اکثر مہنگی پڑ جاتی ہے

ایک گاؤں میں ایک نواب صاحب رہا کرتے تھے اور بہت بڑی جائیداد اور زمینوں کے مالک تھے زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی ان کے آس پاس کے لوگ بھی نواب صاحب سے بہت خوش تھے ایک دفعہ نواب صاحب بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں ان کا چھوٹا پیشاب بند ہوگیا قریب کے سارے حکیم اور ااطباء نے اپنے تمام نسخے آزما لیے مگر نواب صاحب کو کسی طور آرام نا آیا تنگ آ کر نواب صاحب نے اپنے ملازم حکیم سے کہا کہ وہ اریب قریب کے گاؤں میں منادی کروادے کہ جو ہمیں اس بیماری سے نجات دلائے گا ہم اسے سو اشرفیاں انعام دیں گے بہت سے لوگ انعام کے لالچ میں نواب صاحب کا علاج کرنے آئے مگر کوئی بھی کامیاب نا ہو سکا نواب صاحب کی تکلیف روز بہ بروز بڑھتی جا رہی بڑھتی جا رہی تھی مگر کوئی بھی حکیم ان کاعلاج تلاش نا کر سکا ایک دن ایک بزرگ پھٹے پرانے حال میں حویلی کے گیٹ پر پہنچے اور دربان سے اندر جانے کی اجازت چاہی دربان نے بزرگ کا حلیہ دیکھ کر انھیں بھگانا چاہا مگر بزرگ بضد رہے کہ انھیں نواب صاحب سے ملنا ہےبمشکل تمام دربانوں نے ان بزرگ کو نواب صاحب کے پاس جانے کی اجاز دی وہ بزرگ نواب صاحب کے پاس پہنچے اور علاج کی اجازت چاہی نواب صاحب نے ان...

ایم کیو ایم پاکستان پاک فوج کے کس اعلیٰ افسر نے بنائی

کراچی(آئی این پی ) پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی)کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ فاروق ستا ر کے ساتھ ہماری ملاقات اور پریس کانفرنس انکی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے کروائی ، میں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ نہیں ہوں ،ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے بلوا کر فاروق ستار سے ملوایا، ہمارے پہنچے سے پہلے وہاں فاروق ستار موجود تھے،تاثردیا جارہا ہے فاروق ستار کو اغوا کرکے پریس کانفرنس کرائی، اگر ہم نے بلوایا ہوتا تو ہم پہلے سے موجود ہوتے فاروق ستار نہیں ،فاروق ستار اور انکی 11 رکنی ٹیم گزشتہ 8 ماہ سے ہم سے ملاقاتیں کر رہی تھی،ہرگھنٹے  اورکامیڈی شوہورہا تھا، ہم نے فیصلہ کیا ملکر جماعت کا نیا نام رکھا جائے گا،ہم نے فیصلہ کیا ملکر جماعت کا نیا نام رکھا جائے گا،ہم ڈان لیکس اور ایم کیو ایم لیکس کرنے والے لوگ نہیں، ہمیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،کہا تھا کہ جھوٹ اتنا بولیں کہ سچ نہ بولنے پڑ یں، الٹا فاروق ستار نے ہم پر الزام لگایا کہ پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، الطاف حسین را کیلئے کھل کے کام کر رہا ہے ،فاروق ستار چاہتے تھے کہ پی ایس پی، ایم کیو ایم میں ضم ہو، لیکن میں نے ان کو بتایا کہ میں ایم کیو ایم میں ...